حضرت ابی بن کعب (رضی اللہ عنہ) مدینہ منورہ میں رمضان المبارک میں لوگوں کو بیس (20) رکعات تراویح پڑھایا کرتے تھے
تراویح 20 رکعت، تہجد 8 رکعت، اور وتر 3 یا 5 رکعت پڑھی جا سکتی ہے لیکن ایک رکعت سنت نہیں۔ - تہجد 8 رکعات ہے، حنفی مسلک اور دیگر کتب حدیث کی روشنی میں درست ہے۔ تہجد (Tahajjud) رات کے آخری پہر (نیند سے جاگنے کے بعد) پڑھی جانے والی نفل نماز ہے۔ افضل تعداد 8 رکعات ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ سے اکثر 8 رکعات تہجد پڑھنا ثابت ہے ۔ واضح رہے کہ رمضان المبارک میں تراویح اور تہجد دو الگ الگ نمازیں ہیں--- صحیح بخاری کے ابواب کی تفصیل ہے جہاں ابن عباس کی حدیث ہے کہ نبی ﷺ کی رات کی نماز 13 رکعات تھی، اور ساتھ ہی وضاحت ہے کہ اس میں وتر اور فجر کی سنتیں شامل ہیں-- حضرت عائشہ کی حدیث میں 11 رکعات کا ذکر ہے جو خالص تہجد ہے ۔ دوسری روایات میں 13 رکعات کا ذکر ہے جس میں تہجد (11) + فجر کی سنتیں (2) شامل ہیں ۔ ابن-- تن (عربی):* عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي رَمَضَانَ؟ فَقَالَتْ: «مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلَا فِي غَيْرِهِ عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً» * ... ت...