8 رکعت تراویح ہندوستان میں انگریزوں کے انے کے پہلے کسی نے نہیں پڑھی
٨ ر ک عت تراویح انگریز سرکار کے وظیفہ خوروں نے شرو کیا تھا ١٨٥٧ کے بعد 1857 سے پہلے کسی مسلک یا فرقے نے 8 رکعات کوتراویح نام نہیں دیا تھا،۔ 8 رکعات کے اس عمل کو "تہجد" ہی کہا جاتا تھا ۔ تراویح 20 رکعت، تہجد 8 رکعت، اور وتر 3 یا 5 رکعت پڑھی جا سکتی ہے لیکن ایک رکعت سنت نہیں۔ - تہجد 8 رکعات ہے، حدیث کی روشنی میں درست ہے۔ تہجد (Tahajjud) رات کے آخری پہر (نیند سے جاگنے کے بعد) پڑھی جانے والی نفل نماز ہے۔ افضل تعداد 8 رکعات ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ سے اکثر 8 رکعات تہجد پڑھنا ثابت ہے ۔ واضح رہے کہ رمضان المبارک میں تراویح اور تہجد دو الگ الگ نمازیں ہیں--- صحیح بخاری کے ابواب کی تفصیل ہے جہاں ابن عباس کی حدیث ہے کہ نبی ﷺ کی رات کی نماز 13 رکعات تھی، اور ساتھ ہی وضاحت ہے کہ اس میں وتر اور فجر کی سنتیں شامل ہیں-- حضرت عائشہ کی حدیث میں 11 رکعات کا ذکر ہے جو خالص تہجد ہے ۔ دوسری روایات میں 13 رکعات کا ذکر ہے جس میں تہجد (11) + فجر کی سنتیں (2) شامل ہیں ۔ ابن-- تن (عربی):* عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،...