राजेश गुलाटी ने अनुपमा गुलाटी के 72 #टुकड़े किए और D फ्रीजर में रक्खा आफताब ने श्रद्धा के 35 टुकड़े

Manjula (32). She was serving as a home guard attached to the Mahadevapura police station. The accused husband has been identified as Pradeep. The incident occurred on Sunday evening at her parental residence in B Narayanapura.

Image
  BENGALURU: A shocking domestic tragedy unfolded in Mahadevapura when a home guard was stabbed to death by her husband in front of their two children and family members after he reportedly lured her into a reconciliation meeting and attacked her with a knife. Get breaking news anytime, anywhere. Download the TOI app now! Invest in Asia's fastest growing business corridor Hiranandani Ebony · Sponsored The deceased has been identified as Manjula (32). She was serving as a home guard attached to the Mahadevapura police station. The accused husband has been identified as Pradeep. The incident occurred on Sunday evening at her parental residence in B Narayanapura. Based on the preliminary investigation, police said Pradeep had become addicted to online betting and had been facing financial and family problems. Before the murder, he reportedly recorded selfie videos claiming that the betting habit had ruined his family and stating that both he and his wife would die. A senior officer sa...

دائیں ہاتھ میں ککڑی تھی اور بائیں ہاتھ میں چند کھجوریں تھیں، اور آپ کبھی اس (ہاتھ) سے کھا رہے تھے اور کبھی اس (ہاتھ) سے

 المعجم الصغیر للطبرانی: حدیث نمبر 646 السند (Sanad): حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَسْلَمَةَ أَبُو مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:

المتن (Matan): «وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي يَمِينِهِ قِثَّاءُ وَفِي يَسَارِهِ تَمَرَاتٌ وَهُوَ يَأْكُلُ مِنْ هَذَا مَرَّةً وَهَذَا مَرَّةً» [المعجم الصغیر للطبرانی: حدیث 646]


"اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کے دائیں ہاتھ میں ککڑی تھی اور بائیں ہاتھ میں چند کھجوریں تھیں، اور آپ کبھی اس (ہاتھ) سے کھا رہے تھے اور کبھی اس (ہاتھ) سے۔"

معجم صغیر کی روایت میں واضح طور پر "دونوں ہاتھوں سے کھانے" کا ذکر ہے، نہ کہ صرف دونوں چیزوں کو ملا کر کھانے کا۔ میں معذرت خواہ ہوں۔

اب میں معجم صغیر للطبرانی کی اس حدیث کو مکمل سند، متن، اور حوالہ جات کے ساتھ پیش کرتا ہوں:

المعجم الصغیر للطبرانی: حدیث نمبر 646 السند (Sanad): حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَسْلَمَةَ أَبُو مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:

المتن (Matan): «وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي يَمِينِهِ قِثَّاءُ وَفِي يَسَارِهِ تَمَرَاتٌ وَهُوَ يَأْكُلُ مِنْ هَذَا مَرَّةً وَهَذَا مَرَّةً» [المعجم الصغیر للطبرانی: حدیث 646]

ترجمہ اردو (Urdu Tarjuma): "اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کے دائیں ہاتھ میں ککڑی تھی اور بائیں ہاتھ میں چند کھجوریں تھیں، اور آپ کبھی اس (ہاتھ) سے کھا رہے تھے اور کبھی اس (ہاتھ) سے۔"

مختلف کتب میں الفاظ کا فرق آپ کا نکتہ بہت اہم ہے کہ معجم میں "دونوں ہاتھوں سے کھانے" کا ذکر ہے، جبکہ دوسری کتب میں "ملا کر کھانے" کے الفاظ ہیں۔下表 میں یہ فرق واضح ہے:

کتاب حدیث نمبر عربی متن خصوصیت المعجم الصغیر للطبرانی 646 «فِي يَمِينِهِ قِثَّاءُ وَفِي يَسَارِهِ تَمَرَاتٌ وَهُوَ يَأْكُلُ مِنْ هَذَا مَرَّةً وَهَذَا مَرَّةً» دونوں ہاتھوں میں الگ الگ چیزیں صحیح البخاری 5440، 5447، 5449 «يَأْكُلُ الرُّطَبَ بِالْقِثَّاءِ» ملا کر کھانا صحیح مسلم 5330 (2043) «يَأْكُلُ الْقِثَّاءَ بِالرُّطَبِ» ملا کر کھانا سنن ابن ماجہ 3325 «يَأْكُلُ الْقِثَّاءَ بِالرُّطَبِ» ملا کر کھانا

ا ایک ہاتھ میں کھجور اور دوسرے ہاتھ میں ککڑی لے کر کھانا" کے الفاظ سے پوچھی ہے، وہ حدیث معجم صغیر للطبرانی میں موجود ہے۔ میں اس حدیث کا عربی متن (سند اور متن کے ساتھ) پیش کرتا ہوں۔

معجم صغیر للطبرانی: حدیث نمبر 646 السند (Sanad): حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَسْلَمَةَ أَبُو مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:

المتن (Matan): «وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي يَمِينِهِ قِثَّاءُ وَفِي يَسَارِهِ تَمَرَاتٌ وَهُوَ يَأْكُلُ مِنْ هَذَا مَرَّةً وَهَذَا مَرَّةً»

ترجمہ اردو (Urdu Tarjuma): "اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کے دائیں ہاتھ میں ککڑی تھی اور بائیں ہاتھ میں چند کھجوریں تھیں، اور آپ کبھی اس (ہاتھ) سے کھا رہے تھے اور کبھی اس (ہاتھ) سے۔" [المعجم الصغیر للطبرانی: حدیث 646]

تخریج و دیگر کتب میں مقامات یہ حدیث مختلف کتب حدیث میں مختلف الفاظ کے ساتھ موجود ہے۔ ذیل میں ان کا خلاصہ ہے :

کتاب حدیث نمبر عربی متن (مختصر) صحیح البخاری 5440، 5447، 5449 «يَأْكُلُ الرُّطَبَ بِالْقِثَّاءِ» صحیح مسلم 5330 (2043) «يَأْكُلُ الْقِثَّاءَ بِالرُّطَبِ» جامع الترمذی 1844 «يَأْكُلُ الْقِثَّاءَ بِالرُّطَبِ» سنن ابی داؤد 3835 «يَأْكُلُ الْقِثَّاءَ بِالرُّطَبِ» سنن ابن ماجہ 3325 «يَأْكُلُ الْقِثَّاءَ بِالرُّطَبِ» مسند الحمیدی 550 «يَأْكُلُ الرُّطَبَ بِالْقِثَّاءِ» المعجم الصغیر للطبرانی 646 «فِي يَمِينِهِ قِثَّاءُ وَفِي يَسَارِهِ تَمَرَاتٌ وَهُوَ يَأْكُلُ مِنْ هَذَا مَرَّةً وَهَذَا مَرَّةً» وضاحت فرق: معجم صغیر کی روایت میں صراحت ہے کہ آپ ﷺ کے دائیں ہاتھ میں ککڑی اور بائیں ہاتھ میں کھجور تھی، اور آپ دونوں سے کھا رہے تھے۔ دوسری کتب میں عمومی طور پر "ککڑی کو کھجور کے ساتھ کھانا" کے الفاظ ہیں

  1. صحیح بخاری: حدیث نمبر 5440 السند (Sanad): حَدَّثَنَا عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:

المتن (Matan): «رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ الرُّطَبَ بِالقِثَّاءِ»

ترجمہ اردو (Urdu Tarjuma): "ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تازہ کھجور ککڑی کے ساتھ کھاتے دیکھا ہے۔"

کتاب البیوع (کتاب: کھانوں کے بیان میں) باب: الرُّطَبِ بِالقِثَّاءِ (باب: تازہ کھجور اور ککڑی ایک ساتھ کھانا) [صحیح بخاری: 5440]

  1. صحیح بخاری: حدیث نمبر 5447 السند (Sanad): حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ ، قَالَ:

المتن (Matan): «رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ الرُّطَبَ بِالْقِثَّاءِ»

ترجمہ اردو (Urdu Tarjuma): "مجھ سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا اور انہوں نے عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما سے سنا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھجور کو ککڑی کے ساتھ کھاتے ہوئے دیکھا۔" [صحیح بخاری: 5447]

  1. صحیح بخاری: حدیث نمبر 5449 السند (Sanad): حَدَّثَنَا ابْنُ مُقَاتِلٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ :

المتن (Matan): «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ الرُّطَبَ بِالْقِثَّاءِ»

ترجمہ اردو (Urdu Tarjuma): "ہم سے ابن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو ابراہیم بن سعد نے خبر دی، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ککڑی کے ساتھ کھجور کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔" [صحیح بخاری: 5449]

وضاحت و فوائد متن کا فرق: تینوں احادیث کا متن تقریباً ایک جیسا ہے، صرف تھوڑے سے الفاظ کے فرق کے ساتھ:

حدیث 5440: «يَأْكُلُ الرُّطَبَ بِالقِثَّاءِ» (تازہ کھجور کو ککڑی کے ساتھ کھاتے)

حدیث 5447: «يَأْكُلُ الرُّطَبَ بِالْقِثَّاءِ» (بالکل وہی)

حدیث 5449: «يَأْكُلُ الرُّطَبَ بِالْقِثَّاءِ» (بالکل وہی)

سند کا فرق: تینوں حدیثوں کی سندیں مختلف راویوں سے مروی ہیں، لیکن سب عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما تک پہنچتی ہیں۔ یہ صحیح بخاری کی خصوصیت ہے کہ ایک ہی حدیث کو مختلف اسناد سے ذکر کیا جاتا ہے۔

طبی حکمت: ان احادیث میں نبی کریم ﷺ کی طبی حکمت نمایاں ہے:

کھجور (رطب) کا مزاج گرم اور خشک ہے۔

ککڑی (قثاء) کا مزاج سرد اور تر ہے۔

دونوں کو ملا کر کھانے سے ایک دوسرے کی تاثیر معتدل ہو جاتی ہے، جس سے جسم کو متوازن غذا ملتی ہے ۔

سادگی کی علامت: یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ نبی کریم ﷺ سادہ اور فطری غذا کھاتے تھے اور کھانے میں تکلف اور اسراف سے دور رہتے تھ


صحیح مسلم: حدیث نمبر 2043 السند (Sanad): حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ الْهِلَالِيُّ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ ابْنُ عَوْنٍ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ .

المتن (Matan): «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ الْقِثَّاءَ بِالرُّطَبِ» .

ترجمہ اردو (Urdu Tarjuma): "حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تازہ کھجور کے ساتھ ککڑی کھاتے ہوئے دیکھا" ۔

دیگر کتب حدیث میں اس حدیث کے مقامات: یہ حدیث صحیح مسلم کے علاوہ دیگر مستند کتب حدیث میں بھی موجود ہے :

کتاب حدیث نمبر متن میں الفاظ صحیح البخاری 5440، 5447، 5449 «يَأْكُلُ الرُّطَبَ بِالْقِثَّاءِ» صحیح مسلم 2043 (5330) «يَأْكُلُ الْقِثَّاءَ بِالرُّطَبِ» جامع الترمذی 1844 «يَأْكُلُ الْقِثَّاءَ بِالرُّطَبِ» سنن ابی داؤد 3835 «يَأْكُلُ الْقِثَّاءَ بِالرُّطَبِ» سنن ابن ماجہ 3325 «يَأْكُلُ الْقِثَّاءَ بِالرُّطَبِ» مسند الحمیدی 550 «يَأْكُلُ الرُّطَبَ بِالْقِثَّاءِ»

Comments

Popular posts from this blog

مکتب تکمیل العلوم جگدیش پور کے اراکین کی فہرست عارضی رکن

Love jehad Parsi Versace hindu

पुत्री संघ मैथुन करने वाले संशकारी ब्राह्मण हैं सभ्य समाज से हैं शिक्षक हैं इसलिए इनका नाम छुपा दिया गया है ज्ञानी हैं महा ज्ञानी है ब्रह्म पुराण की शिक्षा भी देते हैं ऋषि अगस्त्य के प्रसंशक हैं ब्राह्मण है

रिंपल जैन को उसकी मां की जघन्य हत्या और शव के टुकड़े-टुकड़े करने के सिलसिले में गिरफ्तार कर लिया है,

अंध भक्तों विरोध करने का तरीका भी तुम्हारा निराला है

Netanyahu funded Hamas with $35 million a month from Qatar - suitcases filled with U.S. dollars, every single month. Over time, more than $1 billion flowed to the group controlling Gaza” these all conspiracy for showing terror victims to europium's

مکتب تکمیل لعلوم جگدیسپور کمپوٹر کلاس

जिन महिलाओं के हांथ का बना स्कूल के बच्चे खाने से इंकार कर रहे हैं उनके पति और पुत्र भी पठान का बहिस्कर कर रहे हैं

कमलेश उर्फ करण सिंह ने 9 साल की बच्ची पूजा भील का पहले अपहरण किया, रेप किया, गला घोंट कर हत्या की, फिर धारदार हथियार से 10 टुकड़े कर खंडहर में फेंक दिया!

व्हाट्सअप ग्रुप्स को डिलीट करने की मांग करता हुआ एक युवक