Skip to main content

राजेश गुलाटी ने अनुपमा गुलाटी के 72 #टुकड़े किए और D फ्रीजर में रक्खा आफताब ने श्रद्धा के 35 टुकड़े

Manjula (32). She was serving as a home guard attached to the Mahadevapura police station. The accused husband has been identified as Pradeep. The incident occurred on Sunday evening at her parental residence in B Narayanapura.

Image
  BENGALURU: A shocking domestic tragedy unfolded in Mahadevapura when a home guard was stabbed to death by her husband in front of their two children and family members after he reportedly lured her into a reconciliation meeting and attacked her with a knife. Get breaking news anytime, anywhere. Download the TOI app now! Invest in Asia's fastest growing business corridor Hiranandani Ebony · Sponsored The deceased has been identified as Manjula (32). She was serving as a home guard attached to the Mahadevapura police station. The accused husband has been identified as Pradeep. The incident occurred on Sunday evening at her parental residence in B Narayanapura. Based on the preliminary investigation, police said Pradeep had become addicted to online betting and had been facing financial and family problems. Before the murder, he reportedly recorded selfie videos claiming that the betting habit had ruined his family and stating that both he and his wife would die. A senior officer sa...

دنیا کی سب سے مہنگی محبت کی کہانی

 

دنیا کی سب سے مہنگی محبت کی کہانی

اس کی وجہ سے ہزاروں جیل کی سزائیں اور کروڑوں روپے خرچ ہوئے۔

ہادیہ کا اسلام ’لو جہاد‘ کی مثال؟


ہدیہ، شفین

،تصویر کا ذریعہHindustan Times

،تصویر کا کیپشنکیرلہ کی اکھیلا کے اسلام قبول کرکے ایک مسلمان سے شادی کی کہانی ’لو جہاد‘ کی ایک مثال بن گئی ہے

تو ہادیہ مسلمان ہو گئیں۔ نہ ہوتیں تو کوئی مسئلہ نہیں تھا لیکن اب خود ان کے والد ان کی ذہنی صحت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ اور اب یہ فیصلہ سپریم کورٹ میں ہو گا کہ وہ خود اپنی مرضی سے مسلمان ہوئیں یا انھیں مجبور کیا گیا اور ایک مسلمان نوجوان سے ان کی شادی برقرار رہنی چاہیے یا اسے ختم کر دیا جائے۔

کون ہیں ہادیہ؟

کیرالہ کی ایک لڑکی، عمر 24 سال، جس نے اپنے والد کی مرضی کے خلاف شفین نامی ایک مسلمان سے شادی کر لی۔ وہ پہلے اکھیلا تھیں، اسلام قبول کرنے کے بعد ہادیہ بن گئیں، اور اب ان کی کہانی ’لو جہاد‘ کی ایک مثال بن گئی ہے، یا اسے مثال بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ہادیہ اور شفین کی شادی کو عام حالات میں کون پوچھتا لیکن ایک ہندو لڑکی اور مسلمان لڑکے کی شادی ہو یا پدماوتی جیسی کوئی ایسی فلم ہو جس میں بادشاہ مسلمان ہو اور رانی ہندو، تو بات عدالتوں میں پہنچ ہی جاتی ہے۔ آج کل ’لو‘ جہاد ہے اور کس مہذب معاشرے میں اس کی اجازت دی جا سکتی ہے؟

ہائی کورٹ آف کیرالہ

،تصویر کا ذریعہHCKRECRUITMENT.NIC.IN

مسئلہ کیا ہے؟

ہادیہ کا مقدمہ پاپولر فرنٹ آف انڈیا نے عدالت میں لڑا جس کی وجہ سے اس پر لو جہاد کو فروغ دینے کا الزام لگا اور اس پر پابندیاں لگائی گئیں جس کی وجہ سے اب بھی ہزاروں لوگ جیل میں ہیں
۔

کے ایم اسوکن کا الزام ہے 

  کہ ان کی بیٹی کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا گیا، ان کے مطابق دہشت گردوں کا ایک گروہ معصوم لڑکیوں کو پھنسانے میں لگا ہوا ہے۔

مسٹراسوکن کے مطابق اصل منصوبہ ان لڑکیوں کو جہاد کے لیے بھیجنے کا تھا۔ معاملہ دو مرتبہ کیرالہ کی ہائی کورٹ میں پہنچا، دوسری مرتبہ عدالت نے ان کی شادی کو ختم کرنے کا حکم دیتے ہوئے انھیں مسٹر اسوکن کے سپرد کردیا۔

بات سپریم کورٹ میں پہنچی تو عدالت نے دہشت گردی کے واقعات کی تفتیش کرنے والے ادارے این آئی اے کو ’لو جہاد‘ کے الزامات کی تفتیش کرنے کا حکم دیا۔ ادارہ ایک مہر بند رپورٹ عدالت عظمی کو پیش کر چکا ہے۔

اعلیٰ ترین عدالتوں میں کارروائی جاری ہے۔ پیر کو ہدیہ سپریم کورٹ میں پیش ہوں گی۔ دہلی آنے سے پہلے وہ کہہ چکی ہیں کہ انھوں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا تھا اور اپنے شوہر شفین کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں۔

جب سرکاری ایجنسی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے تحقیقات شروع کی تو یہ بات سامنے آئی کہ پاپولر فرنٹ آف انڈیا نے سپریم کورٹ کے وکیل کپل سبل کو کروڑوں روپے دیے تھے۔ کیس کیرالہ کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں کیسے گیا؟


لیکن ان کے والد کا کہنا ہے کہ ان کے خاندان میں ذہنی بیماری کی تاریخ ہے اور ہو سکتا ہے کہ ان کی بیٹی کا ذہنی توازن بھی ٹھیک نہ ہو۔ وہ سپریم کورٹ میں اپنی کہانی سنائیں گی اور اس کے بعد ہو سکتا ہے کہ عدالت ان کے طبی معائنے کے لیے ماہرین نفسیات کی ایک کمیٹی تشکیل دے دے۔

اگر ماہرین یا ان سے پہلے جج حضرات اس نتیجے پر پہنچ گئے کہ ان کا ذہنی توازن صحیح ہے تو پھر ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی باقی زندگی شفین کے ساتھ گزار سکیں، اگر نہیں تو پھر انھیں اپنے والد کے پاس ہی لوٹنا ہو گا۔

ہادیہ کو جلد ہی اپنی ذہنی صحت کے بارے میں خبر مل جائے گی۔


Comments

Popular posts from this blog

مکتب تکمیل العلوم جگدیش پور کے اراکین کی فہرست عارضی رکن

Love jehad Parsi Versace hindu

पुत्री संघ मैथुन करने वाले संशकारी ब्राह्मण हैं सभ्य समाज से हैं शिक्षक हैं इसलिए इनका नाम छुपा दिया गया है ज्ञानी हैं महा ज्ञानी है ब्रह्म पुराण की शिक्षा भी देते हैं ऋषि अगस्त्य के प्रसंशक हैं ब्राह्मण है

रिंपल जैन को उसकी मां की जघन्य हत्या और शव के टुकड़े-टुकड़े करने के सिलसिले में गिरफ्तार कर लिया है,

अंध भक्तों विरोध करने का तरीका भी तुम्हारा निराला है

Netanyahu funded Hamas with $35 million a month from Qatar - suitcases filled with U.S. dollars, every single month. Over time, more than $1 billion flowed to the group controlling Gaza” these all conspiracy for showing terror victims to europium's

مکتب تکمیل لعلوم جگدیسپور کمپوٹر کلاس

जिन महिलाओं के हांथ का बना स्कूल के बच्चे खाने से इंकार कर रहे हैं उनके पति और पुत्र भी पठान का बहिस्कर कर रहे हैं

कमलेश उर्फ करण सिंह ने 9 साल की बच्ची पूजा भील का पहले अपहरण किया, रेप किया, गला घोंट कर हत्या की, फिर धारदार हथियार से 10 टुकड़े कर खंडहर में फेंक दिया!

व्हाट्सअप ग्रुप्स को डिलीट करने की मांग करता हुआ एक युवक