राजेश गुलाटी ने अनुपमा गुलाटी के 72 #टुकड़े किए और D फ्रीजर में रक्खा आफताब ने श्रद्धा के 35 टुकड़े
مسجد کے باہر تعینات پولیس اہلکار نے جو رپورٹ درج کی تھی اس میں مورتی رکھنے والے سادھوؤں کے نام درج کرائے گئے تھے۔
- Get link
- X
- Other Apps
مقامی کلکٹر کے کے نائر نے بابری مسجد پر تالہ لگوا دیا۔ اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے اتر پردیش کے کانگریس کے وزیر اعلی جی بی پنت کومسجد سے مورتی ہٹانے کی ہدایت کی۔ پنت نے نہرو کو جواب دیا کہ اگرمورتی ہٹائی گئی تو ایودھیا میں فساد برپا ہو جائے گا۔ اس وقت کے فیض آباد کے کانگریس کے رکن
کیا کہیںگے انکو یہ کانوں ہیں یا کانوں بچنے والے
پارلیمان بابا راگھو داس نے بھی مسجد سے مورتی ہٹانے کی سخت مخالفت کی تھی
۔
مغل بادشاہ ظہیرالدین محمد بابر سے منسوب بابری مسجد بابر نے نہیں بنوائی تھی۔ لودھی حکمرانوں کے خلاف اودھ اور بنگال کی اپنی مہم کے دوران بابر اس راستے سے گزرے تھے۔ ان کے ایک کمانڈر میر باقی نے 1528 میں بابری مسجد تعمیر کرائی تھی۔ یہ مسجد شہر کے وسط میں مٹی کے ایک اونچے ٹیلے پر تعمیر کی گئی تھی۔
یہ شہر کی سب سے بڑی مسجد تھی۔ اس میں تین بڑے گنبد تھے اور گنبد اور صحن کے بعد کھلا ہوا حصہ تھا۔ تین طرف سے اس میں چار دیواری تھی۔ اس میں تسلسل کے ساتھ 1949 تک نماز ادا کی جاتی رہی تھی۔
مسجد جس علاقے میں واقع تھی اس کے اطراف میں مسلمانوں کی آبادی تھی۔ کئی محلے ملی جلی آبادی کے تھے۔ آس پاس میں بہت سے مندر بھی تھے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہاں مسلم آبادی کم ہوتی گئی۔
بابری مسجد، 22 دسمبر 1949 کے بعد اہم واقعات کی ترتیب
22–23 دسمبر 1949: رات کے وقت بابری مسجد کے اندر کچھ ہندو کارکنوں نے رام کے مجسمے رکھ دیے۔ دعویٰ کیا گیا کہ یہ "معجزاتی ظہور" تھا۔ اگلے دن ہندوؤں نے مسجد میں پوجا شروع کر دی۔ اس کے بعد انتظامیہ نے مسجد کو بند کر کے تالا لگا دیا، لیکن مجسموں کو رہنے دیا اور ہندوؤں کو پوجا کی اجازت دے دی۔
16 جنوری 1950: ہندو مقدمہ دائر ہوا، جس میں مسجد کے اندر پوجا جاری رکھنے کا مطالبہ کیا گیا۔
1984: وشوا ہندو پریشد نے بابری مسجد کو گراکر رام مندر بنانے کی مہم شروع کی۔ بی جے پی نے اسے سیاسی حمایت دی۔
1986: فروری میں ضلعی عدالت نے حکم دیا کہ مسجد کے تالے کھول دیے جائیں تاکہ ہندو پوجا کر سکیں۔ اسے "رام جنم بھومی" کا نام دیا گیا۔
1989: بی جے پی نے ملک بھر میں رام مندر کی تعمیر کے لیے تحریک تیز کی۔
1990: بی جے پی رہنما لل کرشن اڈوانی نے رتھ یاترا نکالی۔ اکتوبر میں، کئی کارکنوں نے بابری مسجد کی دیواروں پر حملہ کیا۔ پولیس فائرنگ میں کئی افراد ہلاک ہوئے۔
6 دسمبر 1992: کار سیواکوں کے ایک بڑے ہجوم نے بابری مسجد کو منہدم کر دیا۔ اس کے بعد ملک کے کئی حصوں میں فرقہ ورانہ فسادات پھوٹ پڑے۔
2003: آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا نے عدالت کے حکم پر کھدائی کی، جس کے نتائج پر متنازعہ دعوے سامنے آئے۔
30 ستمبر 2010: الہ آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا کہ متنازعہ زمین کو تین حصوں میں بانٹا جائے: ایک رام للا کو، ایک سنسٹ کو، اور ایک مسلم وقف بورڈ کو۔
9 نومبر 2019: بھارت کی سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا کہ پوری متنازعہ زمین رام جنم بھومی نیاس کو دی جائے گی۔ مسلمانوں کو الگ زمین دی جائے گی تاکہ وہ مسجد تعمیر کر سکیں۔
5 اگست 2020: بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے رام مندر کی تعمیر کے لیے بھومی پوجن کی رسم ادا کی۔
بابری مسجد کیس سے جڑے افراد اور ان کے عہدےبابری مسجد (اب اُمشلہ رام جنم بھومی) کیس سے 1949 سے 2025 تک جڑے ہوئے چار اہم افراد ایسے ہیں جنہیں ریٹائرمنٹ کے بعد سرکار نے اعلیٰ عہدوں پر تعینات کیا، جو مبینہ طور پر ان کی خدمات کا صلہ سمجھے جاتے ہیں ��۔ یہ افراد 1949 کی ابتدائی پیش رفت اور 2019 کے سپریم کورٹ فیصلے سے منسلک ہیں۔کے کے نایار (KK Nayar)1949
میں فیض آباد کے ڈسٹرکٹ میجسٹریٹ کے کے نایار نے بابری مسجد میں مورتی رکھنے کے بعد انہیں ہٹانے سے انکار کر دیا، جس سے تنازع کی بنیاد پڑی ��۔
فیض آباد ڈسٹرکٹ جج جنہوں نے 1986 میں بابری مسجد کو کھولنے کا حکم دیا تھا وہ K.M. پانڈے انہوں نے یکم فروری 1986 کو متنازعہ جگہ کے اندر مذہبی خدمات کی اجازت دیتے ہوئے ایک درخواست کی سماعت کرتے ہوئے فیصلہ سنایا۔
1952 میں رضاکارانہ ریٹائرمنٹ لینے کے بعد وہ بھارتیہ جن سنگھ میں شامل ہوئے اور 1967 میں بحریچ سے لوک سبھا ممبر (ایم پی) منتخب ہوئے ��۔جسٹس رنجن گوگوئی
(Justice Ranjan Gogoi)
جسٹس رنجن گوگوئی 2018-2019 تک چیف جسٹس آف انڈیا (سی جی آئی) رہے اور 2019 میں اُمشلہ رام جنم بھومی بابری مسجد کیس کا فیصلہ سنایا، جس میں متنازع زمین ہندو فریق کو دی گئی ��۔ 2019 میں ریٹائرمنٹ کے چار ماہ بعد مارچ 2020 میں انہیں راجیہ سبھا کا ممبر نامزد کیا گیا ��۔جسٹس عبدال نذیر (Justice Abdul Nazeer)جسٹس عبدال نذیر
2019 کے اُمشلہ رام جنم بھومی بابری مسجد فیصلے والی فائیو جج بنچ کا حصہ تھے ��۔ جنوری 2023 میں سپریم کورٹ سے ریٹائرمنٹ کے ایک ماہ بعد فروری 2023 میں انہیں آندھرا پردیش کا گورنر مقرر کیا گیا، جو بعد میں تلنگانہ بھی رہے ��۔جسٹس اشوک بھوشن (Justice Ashok Bhushan)جسٹس اشوک بھوشن بھی 2019 کے بابری مسجد فیصلے والی بنچ میں شامل تھے ��۔ جولائی 2021 میں ریٹائرمنٹ کے تین ماہ بعد اکتوبر 2021 میں انہیں نیشنل کمپنی لاء اپیلٹ ٹریبیونل (این سی ایل اے ٹی) کا چیئرمین بنایا گیا ��۔
مسجد کے باہر تعینات پولیس اہلکار نے جو رپورٹ درج کی تھی اس میں مورتی رکھنے والے سادھوؤں کے نام درج کرائے گئے تھے۔
مسجد رام مندر توڑ کر اس کے مقام پر بنائی گئی ہے۔
22 دسمبر 1949 کی رات کے اندھیرے میں ایودھیا کے کچھ سادھوؤں نے بابری مسجد کے درمیانی گنبد کے نیچے منبر کے مقام پررام کی ایک چھوٹی مورتی رکھ دی اور اگلی صبح یہ افواہ پھیلائی کہ بھگوان رام بابری مسجد میں اپنی پیدائش کے مقام پر ’ظاہر‘ ہو گئے ہیں۔ چند سادھو مسجد کے باہربھجن کیرتن کرنے لگے۔
مسجد کے باہر تعینات پولیس اہلکار نے جو رپورٹ درج کی تھی اس میں مورتی رکھنے والے سادھوؤں کے نام درج کرائے گئے تھے۔
مقامی کلکٹر کے کے نائر نے بابری مسجد پر تالہ لگوا دیا۔ اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے اتر پردیش کے کانگریس کے وزیر اعلی جی بی پنت کومسجد سے مورتی ہٹانے کی ہدایت کی۔ پنت نے نہرو کو جواب دیا کہ اگرمورتی ہٹائی گئی تو ایودھیا میں فساد برپا ہو جائے گا۔ اس وقت کے فیض آباد کے کانگریس کے رکن پارلیمان بابا راگھو داس نے بھی مسجد سے مورتی ہٹانے کی سخت مخالفت کی تھی۔
مؤرخ عرفان حبیب نے بی بی سی کوچند برس قبل دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ تقسیم ہند کے بعد ملک میں مذہبی منافرت اپنے عروج پر تھی۔ ہندو تنظیمیں انتہائی سرگرم تھی اور ملک کے مسلمانوں کے خلاف فضا بہت خراب تھی۔ جس کے نتیجے میں دسمبر 1949 سے بابری مسجد میں نماز ادا نہیں کی جا سکی۔
بابری مسجد کیس: کب کیا ہوا؟ 9 نومبر 2019 بابری مسجد گرائے جانے میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے والے چہرے کون؟ 27 ستمبر 2020 ایودھیا، جہاں رامائن اور اذان کی صدائیں بیک وقت بلند ہوتی ہیں 4 اگست 2020 کلکٹر کے کے نائر سبکدوش ہونے کے چند برس بعد بی جے پی کی پیشرو جماعت جن سنگھ کے پہلے رکن پارلیمان منتخب ہوئے۔
1950 میں گوپال ویشارد نے فیض آباد ضلع عدالت میں درخواست دائر کی کہ ہندوؤں کو بابری مسجد میں رکھی ہوئی رام کی مورتی کو پوجنے کا حق دیا جائے۔ 1950 میں ہی ایک دیگر سادھو پرم ہنس رام چندر داس نے بھی ایک پٹیشن کے ذریعے مسجد میں روزانہ پوجا کی اجازت مانگی۔ 1959 میں پہلی بار سادھوؤں کے ایک سکول ’نرموہی اکھاڑہ‘ نے پورے بابری مسجد کمپاؤنڈ پر دعوے کی پٹیشن داخل کی۔ 1961 میں اتر پردیش سنی سنٹرل وقف بورڈ نے بابری مسجد کو مسلمانوں کے حوالے کرنے کی پٹیشن ڈالی۔ 1986 میں کانگریس کی حکومت تھی اور راجیو گاندھی وزیر اعظم تھے، اس وقت فیض آباد کی ایک ذیلی عدالت نے مسجد کا تالہ ہندو عقید مندوں کی پوجا کے لیے کھولنے کا حکم دیا۔ یہی وہ وقت تھا جب آر ایس ایس، وشوہندوپریشد اور بجرنگ دل جیسی جماعتوں نے بی بی جے پی کی حمایت سے رام جنم بھومی کو بابری مسجد سے آزاد کرانے کی ملک گیر مہم شروع کی۔ رفتہ رفتہ یہ مہم زور پکڑنے لگی۔ آزاد ہندوستان میں یہ اپنی نوعیت کی سب سے بڑی اورسب سے منظم تحریک تھی۔ 1989 میں خود بگھوان رام کے نام سے ملکیت کا ایک مقدمہ الہ آبادہائی کورٹ میں دائر کیا گیا۔ 25 ستمبر1990 کو بی جے پی کے سینئیر رہنما ایل کے اڈوانی نے گجرات کے سومناتھ مندر سے ایودھیا تک ایک رتھ یاترا کی مہم شروع کی۔ اس مہم میں لاکھوں ہندو شریک ہوئے۔ 1990 میں زبردست سکیورٹی کو توڑتے ہوئے ہزاروں کارسیوک یعنی رضاکار اکتوبر میں پیدل ایودھیا پہنچنا شروع ہو گئے۔ ایک مرحلے پر ایسا لگا کہ یہ ہجوم بابری مسجد پر یلغار کر سکتا ہے۔ اس وقت ریاست میں ملائم سنگھ کی حکومت تھی۔ انھوں نے کارسیوکوں کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کرنے کا حکم دیا جس میں کم ازکم آٹھ کارسیوک مارے گئے۔ ،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES/BBC حتمی مارچ کی کال دسمبر 1992 میں بی جے پی رہنما ایل کے اڈوانی، اٹل بہاری واجپئی اور ہندو تنظیموں کے اعلیٰ رہنماؤں نے ایودھیا کی طرف حتمی مارچ کی کال دی۔ پورے ملک سے لاکھوں کارسیوک ایودھیا پہنچنا شروع ہو گئے۔ یہ کارسیوک بابری مسجد کے نزدیک ایک میدان میں جمع تھے۔
6 سمبر 1992 کو صبح دس بجے کے قریب کارسیوکوں کے ایک ہجوم نے بابری مسجد پر حملہ کر دیا اور چند گھنٹوں میں بابری مسجد زمین بوس کردی گئی۔ اسی وقت وہاں ترپال اور ٹن سے گھیر کر ایک عارضی علامتی مندر بنا دیا گیا۔ عدالت نے جو جس حالت میں تھا اسے اسی حالت برقرار رکھنے کا حکم دیا۔
نرسمہا راؤ کی کانگریس حکومت نے متنازع زمین کے اطراف کی 27 ایکڑ زمین ایکوائر کر لی اور اس کے اطراف میں خاردار باڑیں لکا دی گئیں۔
30 ستمبر 2010 کو الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک کے مقابلے دو کی اکثریت سے منہدم بابری مسجد کی زمین کو تین حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے مقدمے کے دو ہندو فریقوں اور ایک سنی وقف بورڈ کو برابربرابر دینے کا حکم دیا۔
9 نومبر سنہ 2019 کو سپریم کورٹ نے متّفقہ طورپر ہندو فریق کے حق میں اپنا فیصلہ سنا دیا۔ عدالت عظمی نے مرکزی حکومت کو رام مندرکے تعمیر کے لیے ایک ٹرسٹ قائم کرنے کا حکم دیا۔ اس نے حکومت کو یہ ہدایت بھی کی کہ سنی وقف بورڈ کو ایودھیا کے اندر کسی ’مناسب‘ مقام پرمسجد کے لیے پانچ ایکڑ اراضی مہیا کرائے۔
5 اگست 2020 کو وزیر اعظم نریندر مودی نے بابری مسجد کے مقام پر رام مندرکا سنگ بنیاد رکھا۔
22 جنوری 2024 کو وزیر اعظم نریندر مودی ایودھیا میں ایک بڑی تقریب میں اس کا باضاطہ افتتاح کر رہے ہیں۔
مسجد کے لیے زمین ایودھیا شہر سے 25 کلومیٹر دور ایک گاؤں میں دی گئی ہے۔ فیصلے کے بعد وہ ابھی تک خالی پڑی ہے۔
- Get link
- X
- Other Apps















Comments
Post a Comment