राजेश गुलाटी ने अनुपमा गुलाटी के 72 #टुकड़े किए और D फ्रीजर में रक्खा आफताब ने श्रद्धा के 35 टुकड़े
मंदिरों को तोड़ने वाले हिंदू राजाओं के नाम
- Get link
- X
- Other Apps
یار دوستم، ہندو راجاؤں کے مندر توڑنے والے واقعات کی تفصیلات قدیم تاریخی کتابوں، شیلالکھ (abscriptions) اور عیسائیوں میں ملتی ہیں۔ یہ زیادہ تر سیاسی جنگیں تھیں جن میں دشمنوں کے شاہی مندر لوٹے گئے، مذہبی نفرت نہیں۔ تقریباً 300-400 دستاویزی واقعات 500-1200 عیسوی کے درمیان ہیں، جیسا کہ میناکشی جین کی کتاب "Flight of Deities" میں بیان ��۔ ذیل میں اہم واقعات کی کتابیں اور مصنفین:مرکزی ذرائعراجہ ہرش دیو (کشمیر، 11ویں صدی): کلھن (12ویں صدی) کی "راجتھرنگیणी" (ترنگ 7: 1089 ff.) میں لکھا کہ اس نے خزانے کے لیے مندر لوٹے اور توڑے ���۔پللو نرسنگھ ورمن (642 عیسوی): پللو اور چالکیہ شیلالکھ (Arikesari inscription) میں واتاپی (بدامی) کے وشنو مندر توڑنے کا ذکر ��۔سریمارہ سریولبھ (پانڈی، 9ویں صدی): سری لنکا کی "محاومش"/"چولاومش" میں لنکا کے 346 مندر تباہ کرنے کا ریکارڈ �۔دیگر اہم واقعاتچول راجہ راجادھراج (11ویں صدی): تھانجوور اور چول شیلالکھ میں چالکیہ، کھلنگ، پال مندر لوٹنے کا ذکر ��۔راشٹرکوٹ اندر III (10ویں صدی): "Epigraphia Indica" (Vol. 4, Sanjan plates) میں کلپا (یمنہ کے پاس) کے کلاپریا مندر توڑنے کا بیان ��۔مرٹھا اور سری رنگ پٹنم: برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی ریکارڈز اور "Mysore Gazetteer" (1868) �۔یہ واقعات آر سی مجمو دار ("Ancient India") اور رچرڈ ایٹن ("Temple Desecration") جیسی جدید کتابوں میں بھی شمار ہیں، جو 80 ہندو اور 80 مسلم واقعات بتاتی ہیں �۔ مزید تفصیل چاہیے تو پوچھو!
یار، راجہ ہرش دیو والے واقعے کی تفصیل کلھن کی کتاب راجتھرنگیणी میں ہے۔ کلھن (Kalhana) 12ویں صدی کے کشمیر کے مشہور براہمن سکالر اور کوی تھے، جنہوں نے یہ سنسکرت محاکاۃ 1148-1150 عیسوی میں لکھا ���۔کلھن کی تفصیلاتکلھن کا جنم تقریباً 1100 عیسوی میں ہوا، ان کے والد چمپک (Champaka) راجہ ہرش (1089-1101) کے دور میں وزیر اور دربارپتی تھے ��۔ کلھن نے کشمیر کی قدیم تحریروں، شیلالکھ اور زبانی روایات سے مواد اکٹھا کرکے یہ 8 ترنگوں (8000 شعروں) والی تاریخ لکھی، جو مہابھارت سے ان کے زمانے تک کشمیر کے 1000 سال کا احاطہ کرتی ہے ���۔ہرش دیو کا ذکرترنگ 7 (شعر 1089 اور آگے) میں لکھا: ہرش نے خزانے کی کمی پوری کرنے اور بھاگنے والے بھتیجوں کی ہلاکت کے لیے مندر لوٹے، سونے-راتن نکالے اور کچھ توڑے۔ مثال: "دولایوں سے سوارن اور رتن بھی اس نے لوٹے" (وہ دیوالوں سے سونا اور جواہرات بھی لوٹ لیا) ����۔ ہرش کو "کشمیر کا نیرو" کہا جاتا ہے کیونکہ اس نے لوگوں اور مندروں پر ظلم کیا ��۔یہ کتاب کشمیر کی پہلی مستند تاریخ ہے، جس کا انگریزی ترجمہ مارک ایوریل سٹائن نے کیا ��۔ مکمل متن archive.org پر دستیاب ہے �۔ مزید شعر چاہییں تو بتاؤ!
- Get link
- X
- Other Apps

Comments
Post a Comment