राजेश गुलाटी ने अनुपमा गुलाटी के 72 #टुकड़े किए और D फ्रीजर में रक्खा आफताब ने श्रद्धा के 35 टुकड़े

انگریزوں کے خلاف جہاد کرنا حرام ہے یہ کتاب 1887ء میں لاہور کی وکٹوریہ پریس سے شائع ہوئی

Image
   انگریز سرکار کے ساتھ تعلقات بہتر ہوتے گئے۔ اس پس منظر میں بٹالوی صاحب نے جہاد کو حرام قرار دیا اور انگریز حکومت کو "دارالاسلام" کہا 1. صدام حسین کے بارے میں فتویٰ - یہ شیخ ابن باز کا ہے آپ نے جو کہا کہ "صدام حسین کافر ہے اور اس کا قتل کرنا جہاد ہے" - یہ فتویٰ شیخ عبدالعزیز بن باز (سعودی عرب کے سابق مفتی اعظم) کا ہے، جو 1999 میں وفات پا گئے تھے۔ یہ فتویٰ 2004 کے لگ بھگ شائع ہوا تھا۔ اس میں شیخ ابن باز نے صدام حسین کے بارے میں کہا تھا: "صدام حسین کافر ہے، چاہے وہ کلمہ پڑھتا ہو، روزہ رکھتا ہو اور نماز پڑھتا ہو۔ جب تک وہ بعث پارٹی کے نظریے پر یقین رکھتا ہے، وہ مسلمان نہیں بلکہ کافر ہے۔"  اس فتویٰ کی بنیاد یہ تھی کہ عراق کی بعث پارٹی کا نظریہ سیکولر اور سوشلسٹ تھا، جسے شیخ ابن باز اسلام سے خارج سمجھتے تھے۔  ی ہ کتاب 1887ء میں لاہور کی وکٹوریہ پریس سے شائع ہوئی ۔ اس کتاب کا سب سے بڑا دعویٰ یہ تھا کہ اس میں جہاد کے بارے میں ایسی تحقیق پیش کی گئی ہے جو کسی اور کتاب میں نہیں ملتی ۔ کتاب کا مرکزی نکتہ: اس کتاب میں مولانا بٹالوی نے صاف الفاظ میں لکھا کہ: "ہند...

فارسی مورخ واصف کے مطابق تقریباً 60,000 منگولوں کو ہلاک کیا گیا۔دہلی کی منگول پوری آج بھی تمہارے باپ کی شکست کی علامت ہے۔

 منگولوں کا قصہ سن کر کے چھوٹا مرزا حنفی بابون کی توہین آمیژ  قصیدہ سناتاہے، مرزا منگول کو اپناباپ بتاتا ہے۔ اسےنہیں معلوم کہ دہلی کی منگول پوری  آج بھی تمہارے باپ کی شکست کی علامت ہے۔

منگولوں نے ہندوستان پر کتنے حملے کیے؟



منگولوں نے 1221 اور 1327 کے درمیان کئی بار ہندوستان پر حملہ کیا۔ ان کی تعداد 20 سے زیادہ بتائی جاتی ہے، جس میں بڑی اور چھوٹی دونوں مہمات شامل ہیں۔ ابتدائی حملے بنیادی طور پر سرحدی علاقوں (پنجاب، سندھ، لاہور، ملتان) تک محدود تھے، لیکن بعد میں وہ دہلی کے قریب پہنچ گئے۔


👑 اس وقت منگول بادشاہ کون تھا اور کس سے لڑا تھا؟

آپ کے سوال کا جواب کسی ایک بادشاہ کے نام سے نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ یہ حملے کئی دہائیوں تک جاری رہے اور اس عرصے میں منگول اور ہندوستانی دونوں حکمران بدل گئے۔


منگول حکمران: سب سے نمایاں ناموں میں چنگیز خان، اوگیدی خان، اور بعد میں دعا خان (چغتائی خانات کے حکمران) شامل ہیں۔

چنگیزی کتوں نے ہمارے کی نہتھے صوفیوں کا قتل کر دیا تھا

، شیخ فرید الدین عطار کو منگولوں نے ہی شہید کیا تھا۔ آپ کی فراہم کردہ معلومات اور تاریخی حوالوں کے مطابق، یہ واقعہ 1221ء کے قریب اس وقت پیش آیا جب منگولوں نے نیشاپور شہر کو تباہ و برباد کیا تھا۔

آپ کے سوال کے جواب میں، منگولوں کے ہاتھوں ان کی شہادت کی تفصیل کچھ یوں بیان کی جاتی ہے:

جب منگولوں نے نیشاپور پر حملہ کیا تو شیخ عطار کو ایک منگول سپاہی نے گرفتار کر لیا۔ اس سے متعلق ایک مشہور اور سبق آموز روایت کچھ یوں ہے :

پہلی پیشکش: ایک شخص نے شیخ عطار کو چھڑانے کے لیے منگول سپاہی کو ایک ہزار درہم (چاندی کے سکے) بطور تاوان پیش کیے۔

عطار کا پہلا جواب: شیخ عطار نے منگول سپاہی سے کہا کہ اس قیمت پر مجھے فروخت نہ کرو کیونکہ یہ میری صحیح قیمت نہیں ہے۔ سپاہی نے ان کی بات مان لی اور انہیں بیچنے سے انکار کر دیا۔

دوسری پیشکش: تھوڑی دیر بعد، ایک دوسرا شخص آیا اور ان کے بدلے بھوسے کی بوری پیش کی۔

عطار کا دوسرا جواب اور انجام: اس بار شیخ عطار نے منگول سپاہی سے کہا کہ مجھے اب فروخت کر دو کیونکہ اب میری اصل قیمت لگ گئی ہے (یعنی بھوسے کی بوری)۔ یہ سن کر منگول سپاہی بہت غصے میں آ گیا اور اس نے شیخ عطار کا سر قلم کر دیا۔ اس طرح آپ نے ایک عظیم سبق دیا کہ دنیاوی قیمت کچھ نہیں ہوتی۔



یہ واقعہ ان کی شہادت کی مشہور ترین داستان ہے اور اس سے ان کی بے نیازی اور حکمت کا پتہ چلتا ہے

شیخ عطار نے اپنی حکمت سے منگول کو بیوقوف بنا دیا تھا اور اسے کچھ نہیں ملا آج مرزا جیسے منگول کی اولاد اسی وجہ سے تداپ رہی ہیں ۔

ہندوستانی حکمران (سلطان دہلی کے سلطان): ان حملوں کا سامنا کرنے والے اہم ہندوستانی حکمران یہ تھے:


شمس الدین التمش (1211-1236): اپنے دور حکومت میں چنگیز خان نے خوارزم شاہی سلطان جلال الدین کا تعاقب کیا اور سرحدی علاقوں پر حملہ کیا۔


غیاث الدین بلبن (1266-1287): اس نے منگول کے خطرے کو اچھی طرح سمجھا اور اپنی فوج کو مضبوط کیا۔


علاء الدین خلجی (1296-1316): سب سے بڑے اور سب سے زیادہ تباہ کن منگول حملے اس کے دور حکومت میں ہوئے۔ علاؤالدین نے ان حملوں کا بہادری سے مقابلہ کیا اور منگولوں کو عبرتناک شکست دی۔


⚔️ دونوں جنگوں میں کتنے لوگ مارے گئے، اور کس کے پاس کتنی فوج تھی؟


چونکہ بہت سی لڑائیاں ہوئیں، اس لیے میں چند بڑی لڑائیوں کا ڈیٹا فراہم کر رہا ہوں۔ یاد رہے کہ اس وقت کے مورخین نے فوجوں اور ہلاکتوں کی تعداد کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے۔


زران منظور کی جنگ (6 فروری 1298):


کے درمیان لڑائی ہوئی: منگول افواج (قدر کی قیادت میں) بمقابلہ دہلی سلطانی افواج (الغ خان اور ظفر خان کی قیادت میں)۔


فوج کا حجم: منگول فوج کی تعداد تقریباً 10,000-30,000 گھڑ سوار تھی، حالانکہ دہلی کے مورخین اسے 100,000 بتاتے ہیں۔


ہلاکتیں: تقریباً 20,000 منگول مارے گئے۔ قیدیوں کو دہلی لایا گیا اور ہاتھیوں سے روند کر ہلاک کر دیا۔


1306 کا حملہ (دریائے راوی کی جنگ):


کے درمیان لڑائی ہوئی: منگول افواج (کوپیک کی قیادت میں) بمقابلہ دہلی سلطنت کی افواج (ملک کافور اور ملک تغلق کی قیادت میں)۔


فوج کا حجم: منگول فوج کو دوبارہ 100,000 مضبوط بتایا گیا جو کہ مبالغہ آرائی ہو سکتی ہے۔ دہلی کی فوج کا حجم معلوم نہیں ہے۔


ہلاکتیں: فارسی مورخ واصف کے مطابق تقریباً 60,000 منگولوں کو ہلاک کیا گیا۔ علاؤالدین نے حکم دیا کہ ان کی کھوپڑیوں کا ایک مینار بداون گیٹ کے سامنے بنایا جائے۔ 20,000 منگول خواتین اور بچوں کو غلام بنا لیا گیا۔


🤝 کس نے کس سے اتحاد کیا؟

یہ آپ کے سوال کا سب سے دلچسپ حصہ ہے۔ کئی بار اتحاد بنے اور ٹوٹے:


منگولوں کے ساتھ اتحاد:


کھوکھر قبیلہ: پنجاب کے کھوکھر قبیلے نے کئی بار منگولوں کا ساتھ دیا۔ ابتدا میں، انہوں نے خوارزم شاہی شہزادے جلال الدین کی حمایت کی، لیکن بعد میں منگولوں کے ساتھ اتحاد کر لیا۔


سندھ کا گورنر: 1257 میں، سندھ کے گورنر نے منگول حکمران ہلاکو خان ​​سے دہلی کے سلطان سے بچنے کے لیے مدد طلب کی اور اپنا صوبہ اس کے حوالے کرنے کی پیشکش کی۔


دہلی کا ایک شہزادہ: سلطان ناصر الدین کا بھائی جلال الدین مسعود، منگول بادشاہ مونگکے خان کے دار الحکومت قراقرم گیا، تاکہ تخت دوبارہ حاصل کرنے میں اس کی مدد حاصل کرے۔


دہلی سلطنت کے ساتھ تعاون:


"نئے مسلمان": 1292 میں تقریباً 4000 منگول سپاہیوں کو دہلی کی فوج نے شکست دے کر گرفتار کر لیا۔ انہوں نے اسلام قبول کیا اور دہلی میں "مغل پورہ" نامی علاقے میں سکونت اختیار کی۔ انہوں نے کچھ عرصہ دہلی کی فوج میں خدمات انجام دیں لیکن بعد میں 1299 میں بغاوت کر دی۔


نتیجہ: یہ معرکہ صرف دو فوجوں کے درمیان نہیں تھا بلکہ اس میں علاقائی طاقتوں اور باہمی اتحادوں نے بھی نمایاں کردار ادا کیا تھا۔

Comments

Popular posts from this blog

مکتب تکمیل العلوم جگدیش پور کے اراکین کی فہرست عارضی رکن

Love jehad Parsi Versace hindu

पुत्री संघ मैथुन करने वाले संशकारी ब्राह्मण हैं सभ्य समाज से हैं शिक्षक हैं इसलिए इनका नाम छुपा दिया गया है ज्ञानी हैं महा ज्ञानी है ब्रह्म पुराण की शिक्षा भी देते हैं ऋषि अगस्त्य के प्रसंशक हैं ब्राह्मण है

रिंपल जैन को उसकी मां की जघन्य हत्या और शव के टुकड़े-टुकड़े करने के सिलसिले में गिरफ्तार कर लिया है,

अंध भक्तों विरोध करने का तरीका भी तुम्हारा निराला है

مکتب تکمیل لعلوم جگدیسپور کمپوٹر کلاس

जिन महिलाओं के हांथ का बना स्कूल के बच्चे खाने से इंकार कर रहे हैं उनके पति और पुत्र भी पठान का बहिस्कर कर रहे हैं

व्हाट्सअप ग्रुप्स को डिलीट करने की मांग करता हुआ एक युवक

कमलेश उर्फ करण सिंह ने 9 साल की बच्ची पूजा भील का पहले अपहरण किया, रेप किया, गला घोंट कर हत्या की, फिर धारदार हथियार से 10 टुकड़े कर खंडहर में फेंक दिया!

आतंकी मोहन ठाकुर ने7 लोगो की बलि लेे ली और उसके गुर्गे अभी भी सोशल मीडिया पर 20 विकेट गिराने की धमकी दे रहे हैं